12 ستمبر 1992 کو، ٹینس کے شائقین نے یو ایس اوپن سیمی فائنلز میں ایک شاندار مقابلہ دیکھا جب اسٹیفن ایڈبرگ کا سامنا مائیکل چینگ سے ہوا۔ یہ میچ، جو حیرت انگیز طور پر پانچ گھنٹے اور 26 منٹ تک جاری رہا، ایڈبرگ کی فتح کے ساتھ ختم ہوا، جو ایک سخت مقابلے میں پانچ سیٹوں کی جنگ میں جیت گئے، اسکور 6-7، 7-5، 7-6، 5-7، 6-4 رہا۔
یہ میچ نہ صرف یو ایس اوپن کی تاریخ میں سب سے طویل میچ کا ریکارڈ قائم کرتا ہے بلکہ ایڈبرگ کی شاندار استقامت اور مہارت کو بھی اجاگر کرتا ہے۔ سویڈش کھلاڑی کی فتح خاص طور پر متاثر کن تھی کیونکہ یہ ٹورنامنٹ میں پانچ سیٹ کے میچ میں اس کی تیسری مسلسل فتح تھی۔ اس سے پہلے، ایڈبرگ نے رچرڈ کرائیکیک کو شکست دی اور پھر ایک اور حریف کے خلاف اسی طرح کی جنگ لڑی۔
ایڈبرگ کا سیمی فائنلز تک پہنچنا اس کی برداشت کا ثبوت تھا، کیونکہ اسے سخت حریفوں سے چیلنجز کا سامنا کرنا پڑا۔ چینگ کے خلاف سیمی فائنل میں، ایڈبرگ آخری سیٹ میں ایک بریک سے پیچھے تھا، لیکن اس کا تجربہ اور عزم سامنے آیا جب اس نے جیت حاصل کرنے کے لیے دوبارہ کوشش کی۔ یہ میچ اکثر اس کی شدت اور دونوں کھلاڑیوں کی اعلیٰ سطح کی کارکردگی کے لیے یاد کیا جاتا ہے۔
مائیکل چینگ، جو کورٹ پر اپنی رفتار اور چستی کے لیے مشہور ہیں، نے بھی پورے میچ کے دوران شاندار مہارت کا مظاہرہ کیا۔ 1992 کا یو ایس اوپن چینگ کے لیے ایک اہم ٹورنامنٹ تھا، جو 1989 کے فرانسیسی اوپن میں گرینڈ سلیم ٹائٹل جیتنے والے سب سے کم عمر مرد کھلاڑی کے طور پر تاریخ رقم کر چکے تھے۔ ایڈبرگ کے خلاف ان کی کارکردگی نے کھیل میں ان کی طاقتور حریف کی حیثیت کو مزید مستحکم کیا۔
ایڈبرگ کی فتح کی اہمیت صرف میچ تک محدود نہیں تھی۔ اس نے اسے یو ایس اوپن کے فائنلز میں پہنچا دیا، جہاں اسے ٹینس کے سب سے باوقار ٹائٹلز میں سے ایک کے لیے مقابلہ کرنے کا موقع ملے گا۔ چینگ کے خلاف میچ اکثر ٹینس کی تاریخ کے عظیم ترین میچز کے بارے میں گفتگو میں یاد کیا جاتا ہے، جو اس کھیل کی جسمانی اور ذہنی تقاضوں کو اجاگر کرتا ہے۔
سال گزرتے گئے، اس شاندار مقابلے کی وراثت ٹینس کی کمیونٹی میں گونجتی رہی۔ شائقین اور تجزیہ کار دونوں اس میچ پر غور کرتے ہیں کہ یہ دونوں کھلاڑیوں کی کیریئرز میں ایک اہم لمحہ ہے، جو اس کھیل کی محبت اور لگن کو اجاگر کرتا ہے۔
تبصرہ کریں